ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہر جج اگرپانچ دن کی قربانی دے تو عدالت کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے:چیف جسٹس کا اظہار خیال

ہر جج اگرپانچ دن کی قربانی دے تو عدالت کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے:چیف جسٹس کا اظہار خیال

Mon, 03 Apr 2017 11:55:41    S.O. News Service

الہ آباد، 2 ؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جے ایس کھیہر نے آج یہاں کہا کہ ایک جج ہفتے میں صرف پانچ دن چھٹی والی بنچ میں بیٹھے تو وہ روزانہ چھوٹے موٹے 20-25مقدمے نمٹا لے گا اور اس کی اس قربانی سے عدالت کا بوجھ کافی کم ہوگا۔وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے قیام کے 150سال مکمل ہونے پر سال بھر سے چل رہے پروگراموں کی اختتامی تقریب میں خطاب کررہے تھے۔

جسٹس کھیہر نے کہاکہ ہمیں مشورہ دیا گیا کہ آپ چھوٹے چھوٹے معاملات جیسے ضمانت، پیشگی ضمانت، کرایہ کے معاملے، حادثے کے دعوے وغیرہ 10-10معاملات کو ایک ایک بنچ میں لگانے شروع کریں۔ اس پر ہر بنچ تقریبا 10مقدمے صبح ایک گھنٹے میں ختم کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں غور کر رہا تھا کہ اگر ایک جج صرف پانچ دن چھٹی والی بنچ میں بیٹھے اور ایسے معاملے لے جس میں بہت زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، تو  بڑی راحت ملنے کی امید ہے، تو ہر جج ایک سوا گھنٹے میں 20-25معاملے نمٹا لے گا۔الہ آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تناظر میں انہوں نے کہاکہ ایک دن میں ایک جج 20معاملے نپٹاتا ہے ،تووہ پانچ د ن میں سو سوا سو معاملے نمٹا لے گا۔اگر تمام 84-85جج بیٹھیں ،تو 20-30ہزار معاملے نمٹائے جا سکتے ہیں۔اس میں سب کا تعاون ضروری ہو گا ، یہ قربانی صرف پانچ دن کی ہے۔آپ چیف جسٹس کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کن معاملے میں خود کو آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں 31؍جنوری 2017تک 7لاکھ معاملات زیر التوا تھے، جبکہ اس کی لکھنؤ بنچ میں تقریبا دو لاکھ معاملے زیر التوا ہیں۔اس ہائی کورٹ میں 85جج ہیں ،جبکہ منظورشدہ عہدوں کی تعداد 160ہے۔جسٹس کھیہر نے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ میں تین خصوصی بنچ قائم کی ہیں ،جو زیر التوا معاملوں کا بوجھ کم کرنے کے مقصد سے اضافی گھنٹے کام کریں گی اور چھٹیوں کے دوران بھی بیٹھے گی۔


Share: